Posts

مغل شہنشاہ جہانگیر نے اپنی محبوب ترین ملکہ کے لئے پان ایجاد کرایا

مغل شہنشاہ جہانگیر نے اپنی محبوب ترین ملکہ کے لئے پان ایجاد کرایا لاہور (ایس چودھری )پان لبوں کی شان پوری دنیا میں استعمال ہوتا ہے لیکن ہر ملک میں عمومی طور پر اسکے استعمال میں اجزا الگ الگ ہوتے ہیں۔پان خوراک اور نشہ کے علاوہ مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے ۔ہندووں کے مطابق انکے دیوی دیوتاوں میں کرشنا مہاراج پان کھانے کے شوقین تھے ۔ان کے لئے پان کے پتے اہتمام سے اکٹھے کئے جاتے تھے لیکن پان کی طبی حوالے سے جو معروف تاریخ ملتی ہے اسکا تعلق مغلیہ خاندان سے جڑا ہوا ہے ۔جس سے بعد ازاں ہندوستان میں پان کلچر کے طور پر متعارف ہوگیا۔پہلے پہل شہنشاہوں اور مہاراجوں کا یہ شوق تھا لیکن اب تو یہ ریڑھی بانوں کی بھی مجبوری بن چکا ہے ۔ روایت ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر جو اپنی ملکہ نورجہاں کی زلفوں کا اسیر تھا ،اسکے مشوورں سے امور سلطنت طے کیا کرتا تھا ۔عجیب اتفاق تھا کہ ملکہ نورجہاں سے بے حد محبت کرنے والے سلطان کو اسکی ذہانت اورخوبصورتی دونوں نے اپنا مطیع کئے ہواتھا لیکن شہنشاہ کو ملکہ کے منہ کی بدبو ناگوار لگتی تھی ۔وہ جب بھی ملکہ کی جانب جھکتا تو اسے ناگوار بو آتی تھی ۔ملکہ کی دلربائی کی وجہ سے اس ن...

Richest Man in the India

Image
دنیا کا سب سے مہنگا اور بڑا گھر بھارت کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کا، اس میں کیا کچھ ہے اور صرف 5 لوگوں کے لئے کتنے سو ملازم؟ جواب آپ کے تمام اندازوں سے بہت زیادہ ممبئی(نیوز ڈیسک)بڑے گھر سے آپ کے ذہن میں کتنے بڑے گھر کا تصورآتا ہے؟ شاید کوئی تین چار منزلہ گھر، جس میں کچھ درجن کمرے ہوں گے، ایک بڑا سا باغیچہ اور ایک آدھ سوئمنگ پول بھی ہو گا۔ یقینا یہ ایک بڑے گھر کا ہی نقشہ ہے، مگر ذرا ٹھہرئیے، ایک نظر اس گھر پر بھی ڈال لیجئے، اور دیکھ لیجئے کہ بڑا گھر کس کو کہتے ہیں۔ دراصل یہ تو دنیا کا سب سے بڑا گھر ہے، اور دلچسپ بات کہ یہ بھارت میں ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ غریب لوگ کا دیس بھی ہے۔ دی مرر کے مطابق بھارتی شہر ممبئی کے جنوبی حصے میں واقع اس گھر کی مالیت ایک ارب پاﺅنڈ، یعنی تقریباً ایک کھرب 63 ارب پاکستانی روپے، سے بھی زیادہ ہے۔ اس ایک گھر میں تین ہیلی پیڈ ہیں، ایک تھیٹر ہے، متعدد سوئمنگ پول ہیں، اور اس کے پانچ مکینوں کی خدمت گزاری کے لئے 600 ملازمین کام کرتے ہیں۔ یہ بھارت کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کا گھر ہے جو 27 منزلوں پر مشتمل ہے اور اس میں مکیش اپنی اہلیہ نیتا اور تی...

1958,s Marshall law black day in pakistani history

Image
1958 کا مارشل لا: پاکستانی تاریخ کی ’تاریک ترین‘ ر ایوب خان کی آپ بیتی کا اردو ترجمہ مشہور افسانہ نگار غلام عباس نے کیا تھا سات اکتوبر 1958 کو لگائے جانے والے پاکستان کے پہلے مارشل لا کے 60 سال مکمل ہونے کے موقعے پر خصوصی تحریر جنرل ایوب خان اپنی آپ بیتی فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں لکھتے ہیں: 'میں پانچ اکتوبر کو کراچی پہنچا اور سیدھا جنرل اسکندر مرزا سے ملنے گیا۔ وہ لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تلخ، متفکر اور مایوس۔ میں نے پوچھا۔ 'کیا آپ نے اچھی طرح سوچ بچار کر لیا ہے سر؟' 'ہاں۔' 'کیا اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں؟' 'نہیں۔ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔' 'میں نے سوچا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ حالات ایسے موڑ تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ سخت قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی مفر نہیں تھا۔ یہ ملک بچانے کی آخری کوشش تھی۔' اس گفتگو کے دو دن بعد سات اور آٹھ اکتوبر 1958 کی درمیانی شب پاکستان کے پہلے صدر (جنرل) اسکندر مرزا نے آئین معطل، اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگا دیا اور اس وقت کے آرمی چیف ا...

لاہور کے مہاراجہ نے انگلینڈ کی مہارانی کو کوہ نور تحفہ میں نہیں بلکہ دباؤ میں دیا تھا۔ خلاصہ

لاہور کے مہاراجہ نے انگلینڈ کی مہارانی کو کوہ نور تحفہ میں نہیں بلکہ دباؤ میں دیا تھا۔ خلاصہ حکومت ہند نے 2016میں سپریم کورٹ میں کہاتھا کہ کوہ نو ر ہیرا ایسٹ انڈیا کمپنی کو تحفہ میں دیاگیاتھا  آرٹی ائی میں کہاگیا کہ انگریزوں نے لاہور سودے کے ذریعہ جبری طور پر لیاتھا کوہ نور  نئی دہلی۔دنیابھر میں مشہور کوہ نور ہیرا نہ تو ایسٹ انڈیا کمپنی کو تحفہ میں دیا گیا تھا اورنہ ہی وہ چوری ہوا تھا۔ بلکہ لاہور کے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ہیرا دباؤ میں انگلینڈ کی مہارانی وکٹوریہ کے سپرد کرنا پڑا تھا۔ ایک آرٹی ائی کے جواب میں محکمہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اسبات کا خلاصہ کیاہے۔لاہور معاہدے کے تحت کوہ نور انگریزوں کو دینا پڑا تھا۔ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اے ایس ائی اپنے جواب میں لاہور معاہدے کا ذکر کیاہے۔ اس میں بتایاگیاکہ 1849میں ایسٹ انڈیاکمپنی کے لارڈ ڈلہیج اور مہاراجہ دلیپ سنگھ کے بیچ معاہدہ ہوا تھا۔ اس میں مہاراجہ سے کوہ نور سپرد کرنے کے لئے کہاگیا۔حکومت کے بیان کا برعکس اے ای ایس ائی کا یہ بیان ہے۔ سال 2016میں حکومت ہند نے سپریم کورٹ کو بتایاتھا کہ نہ تو کوہ نور انگریز...

دنیا کا تیز ترین انسان کن جانوروں کو دوڑ میں شکست دے سکتا ہے؟

Image
افریقی ملک جمیکا کے ایتھلیٹ یوسین بولٹ کو دنیا کا تیز ترین انسان قرار دیا جاتا ہے۔ بے شمار ریکارڈز رکھنے والے بولٹ کی اوسط رفتار 23 میل فی گھنٹہ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ رفتار 27 میل فی گھنٹہ ہے۔ یہ رفتار دنیا کے چند جانوروں سے بھی زیادہ ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ یوسین بولٹ دوڑ میں کن کن جانوروں کو ہرا سکتے ہیں۔ گلہری: پھرتی سے اخروٹ پکڑ کر بھاگ جانے والی گلہری کی اوسط رفتار 12 میل فی گھنٹہ ہے یعنی یہ باآسانی بولٹ سے شکست کھا سکتی ہے۔ ہاتھی: بھاری بھرکم جسامت کے باوجود ہاتھی 15 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے تاہم بولٹ کو پچھاڑنے کے لیے یہ بھی ناکافی ہے۔ روڈ رنر: آپ نے روڈ رنر نامی کارٹون میں اس پرندے کو ضرور دیکھا ہوگا۔ یہ پرندہ 20 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ کر بھی بولٹ سے شکست کھا جائے گا۔ جیک رسل ٹیریئر (کتے کی ایک قسم): یہ کتا 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور اس کتے اور بولٹ کے درمیان مقابلہ دلچسپ ہوگا تاہم فتح بولٹ کے ہی حصے میں آئے گی۔

ڈیمز؛ آبی ذخیروں کے بارے میں اہم معلومات اور دلچسپ حقائق

Image
ہائیڈرو پاور دنیا کی بجلی کا لگ بھگ پانچواں حصہ فراہم کرتی ہے، اسی کی وجہ سے ہماری زرعی پیداوار کو بجلی ملتی ہے۔ فوٹو : فائل  کسی نے ڈیم کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ آبی ذخیرہ فطرت پر انسان کی فتح ہے۔ ڈیمز کے دو بڑے اور بنیادی کام یا مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا مقصد پانی کو ذخیرہ کرنا ہے جس کی مدد سے دریاؤں میں پانی کی طلب کے وقت اس کے بہاؤ کو متوازن بنانا ہے اور توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنا ہے، تاکہ دوسرے پیداواری کام انجام دیے جاسکیں۔ مثلاً اس سے بجلی بنائی جاسکے۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا کام وقت ضرورت اس ذخیرہ شدہ پانی کی سطح کو اس کی ذخیرہ گاہ کے اندر اس حد تک بلند کرنا ہے تاکہ اس پانی کو مطلوبہ مقام تک بہ ذریعہ نہر یا کینال پہنچایا جائے۔ اس طرح ایک طرف تو یہ پانی نہر کے ذریعے مطلوبہ جگہ تک پہنچ جائے گا اور ساتھ ہی یہ اس حد تک بلند سطح پر پہنچ جائے گا جس کے بعد اس کو توانائی پیدا کرنے کے لیے حسب منشا استعمال کیا جاسکے یعنی ریزروائر کی سطح اور دریا کے نچلے بہاؤ کے درمیان بلندی کو کم کیا جاسکے۔ پانی کے ذخیرے کی تخلیق اور اس کا بالائی حصہ ڈیمز میں بجلی کو جنریٹ ک...

وہ علاقہ جہاں مَرد کیلئے 3 شادیاں کرنا لازمی ہے Three marriages important for the Mans

واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی ریاست یوتاہ کے پہاڑوں میں ایک دوردراز گاؤں میں ایک بنیاد پرست عیسائی کمیونٹی آباد ہے جس کے لوگ تقریباً ایک صدی سے صرف آپس میں ہی شادیاں کر رہے ہیں۔ یہ گاؤں امریکا جیسے ملک میں کثیرالزوجیت کی نادر مثال ہے، جہاں ہر مرد کم از کم تین شادیاں ضرور کرتا ہے، کیونکہ یہ ان کے عقائد کا حصہ ہے۔یہ الگ بات کہ ان لوگوں نے کثیرالزوجیت کے نظریے کو نئی انتہاءکو پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے بچوں کو ایک خطرناک جینیاتی بیماری نے گھیر لیا ہے۔ اس کمیونٹی میں جینیاتی بگاڑ کا خطرہ کسی بھی عام انسان کی نسبت 10لاکھ گنا زیادہ ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عیسائی کمیونٹی کا تعلق ’فنڈامینٹلسٹ چرچ آف جیزز کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس‘ سے ہے۔ یہاں ایک خطرناک جینیاتی بیماری کے 20سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں، جس کے مریضوں کو دورے پڑتے ہیں، ان کے چہرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور دماغ بھی بری متاثر ہوتا ہے۔اس عیسائی کمیونٹی کا آغاز 1930ءکی دہائی میں اس وقت ہوا جب ریاست یوتاہ نے کثیر الزوجیت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ مارمن کمیونٹی کے کچھ مرد جو کہ ایک سے زائد بیویاں ر...